Hamza Alvi | 6 Books Set | Deals Buyers D H Lawrence
اس کا مطلب یہ تسلیم کرنا ہے کہ دنیا میں مختلف سماجی اور معاشی نظام رکھنے والے ملک بیک وقت ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ماننا ہے کہ چونکہ نئی سوشلسٹ ریاستیں پیدا ہو گئی ہیں اور پرانی سرمایہ دار ریاستوں کے پہلو بہ پہلو وہ بھی ترقی کر رہی ہیں اس لیے ان کے درمیان پر امن معاشی تعلقات اور باقاعدہ تجارتی و تہذیبی رابطے قائم ہو سکتے ہیں اور ہونا چاہئیں اور گرم جنگ کا تو ذکر ہی کیا سرد جنگ تک نہ ہونا چاہیے ۔ یہ اس بات کو ماننا ہے کہ وہ تمام تصادم اور جھگڑے جو ریاستوں کے درمیان ہوں مفاہمتی گفتگو کے ذریعے طے کیے جائیں جنگ کے ذریعہ نہیں۔ پر امن بقائے باہم کی پالیسی اس قطعی قابل احترام حق سے پیدا ہوتی ہے کہ ہر قوم خود اپنے لیے موزوں سماجی نظام کا انتخاب کر سکتی ہے۔ پر امن بقائے باہم کی صورت سرمایہ دار ملکوں کے اندر در میان پر امن بقائے باہم کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے۔
’’انتخابات، قصرِ جمہوریت کی پہلی سیڑھی‘‘ اردو زبان میں لکھی گئی پہلی ایسی کتاب ہے جسے دونامور صحافیوں نے تصنیف کیا ہے۔ سید انور قدوائی کا شمار معتبر اور بزرگ صحافیوں میں ہوتا ہے اور وہ ہر طبقہ زندگی میں قابل احترام شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔وہ اُردو صحافت میں سہ حرفی کالم کی سرخی کے بانی کہے جاسکتے ہیں جسے عروج پر سید انور قدوائی کے قریبی دوست(مرحوم) عباس اطہر نے پہنچایا۔ دوسرے مصنف ساجدخان روزنامہ ’’جنگ‘‘ اور بعد میں روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ میں باقاعدگی سے کالم لکھتے رہے۔ سید انور قدوائی اور ساجد خان نے اپنی اس کتاب میں 1946ء کے پہلے الیکشن جس کی بنیاد پر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے علیحدہ وطن حاصل کیا، سے لے کر 2013ء تک جو نئے الیکشن ہوئے، ان سب کا ذکر کیا ہے اور ان انتخابات میں جس طرح دھاندلی کی گئی اس کا احوال بھی بیان کر دیا ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں جو کچھ ہوا، سب اس کتاب کی صورت عوام کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ فیصلہ عوام کریں کہ الیکشن صاف و شفاف تھے یا ان کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا۔ انتخابات کے حوالے سے یہ پہلی کتاب ہے جس میں جمہوری دَور کے علاوہ فوجی دَور میں ہونے والے تمام انتخابات کا ذکر کیا گیا اور اس الیکشن کا جس میں اتنے بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی کہ اس دھاندلی کو اہل صحافت اور عوامی حلقوں نے ’’جھرلو‘‘ کا نام دیا۔
“Roller Coaster” is his fourth book
اس میں کوئی شک نہیں کہ سوویت یونین کا ۱۹۹۱
This observation compelled me to discuss the matter with tazia-artists who are actually involved in the construction of the devotional replica
کیا اس آخری فقرے کی زد میں ہم اور آپ نہیں آتے
of Pages 136 Format Hardbound Publishing Date 2021 Language Urdu ’’چین کی طرزِ حکمرانی‘‘ چینی صدر جناب شی چن پنگ کی نومبر 2012ءسے لے کر 13 جون 2014ءتک اہم تقریروں، مباحثوں، انٹرویوز، ہدایات اور خط و کتابت پر مشتمل کتاب The Governance of China کا اردو ترجمہ ہے۔ چینی صدر کی ان تقاریر میں موجود قدیم داستانوں اور قصوں کے حوالوں اور مذکورہ ضرب الامثال کے پس منظر کو نوجوانوں کے لیے تشریحی متن کے ساتھ ایک مختصر کتاب کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔
گنگناتی خامشی | | گرورجنیش | اوشو
یوٹوپیا میں ایک ریاست اور معاشرے کا جو نقشہ پیش کیا گیا، محققوں کا کہنا ہے کہ موراسے پیش کرنے میں ابہام اور ذو معنویت کا شکار رہا ہے۔ اپنے نظریات کی تمام تر راسخ العقیدیت کے ساتھ اُسے ایسی ریاست کا نقشہ کھنچنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ وہ اُس وقت کے انگلستان اور یورپ کے دیگر ممالک کے نظم و نسق اور سماجی رنگ ڈھنگ سے غیر مطمئن اور مایوس تھا۔ شاید تھامس مورکو یہ پتہ چل گیا تھا کہ وہ حقیقی زندگی کو وہ روپ نہیں دے سکتا تو پھر کیوں نہ ایک ایسی خیالی دنیا کی کہانی گھڑی جائے جہاں وہ سب باتیں نہ ہوں جنھوں نے حقیقی دنیا میں اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔
His Video Lectures Have Been Highly Sought After In Pakistan Not Only By Students But Practitioners As Well
Paisa Apko Ameer nahi bnaega By Sajad Ahmed Sajad
She is a torch of struggle always burning